إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّتٍ وَعُيُونٍ
آیت کی رو سے پرہیز گار لوگ کہاں ہوں گے؟
بیشک متقی (پرہیزگار) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
سورۃ الحجر کی آیت نمبر 45 کے مطابق پرہیزگار (متقی) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
اہم نکات
دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّتٍ وَعُيُونٍ
آیت کی رو سے پرہیز گار لوگ کہاں ہوں گے؟
بیشک متقی (پرہیزگار) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
سورۃ الحجر کی آیت نمبر 45 کے مطابق پرہیزگار (متقی) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
اہم نکات
نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ
آیات میں نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں تک کیا پیغام پہنچانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے؟
(اے نبی!) میرے بندوں کو خبر دے دو کہ بیشک میں ہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں۔ اور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرکی آیات 49 اور 50 میں اپنے نبی ﷺ کو یہ پیغام دینے کا حکم دیا ہے کہ اللہ کی رحمت کی بشارت دیں اور اس کے عذاب سے ڈرائیں
پیغام کی تفصیل اور ہدایت
فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ۔ فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ
آیات کی رو سے سیدنا لوط ؑ کی نافرمان قوم کا کیا انجام ہوا؟
تو سورج نکلتے وقت ایک سخت آواز (چیخ) نے انہیں آ لیا۔ پھر ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصے کو نیچے کا حصہ کر دیا اور ان پر کھنگر (پتھریلی مٹی) کے پتھر برسائے
قومِ لوط کا انجام
وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ
آیت میں آپﷺ کو کیا نعمت عطا فرمانے کا ذکر ہے؟
ور بیشک ہم نے آپ کو سات آیتیں (جو بار بار پڑھی جاتی ہیں یعنی سورۂ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
عطا کردہ نعمتیں
فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ
آیت کی رو سے نبی ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟
پس آپ وہ بات اعلانیہ کہہ دیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے
آیت کی رو سے نبی ﷺ کو دی گئی تلقین و احکام
وَّ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ
ترجمہ اور مفہوم کریں
ور ہم ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ (یا رنجش) ہوگی وہ کھینچ لیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے
تفسیر خلاصہ
وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَۘ۔ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ۔ قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ
آیات کی روشنی میں سیدنا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا واقعہ بیان کریں
اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام! ابراہیم (ؑ) نے کہا: ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتاہے۔ انہوں نے کہا: ڈریے نہیں، ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں
ایک دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اچانک چند نامعلوم افراد آپ کے ہاں مہمان بن کر آئے۔ یہ انسان نہیں تھے، بلکہ اللہ کے مقرب فرشتے تھے جو انسانی روپ دھار کر آئے تھے۔
فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ۔ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ
ترجمہ اور مفہوم
پھر جب لوط کے گھر والے (پاس) فرشتے آئے۔ آپ نے فرمایا: بے شک تم لوگ اجنبی (ناشناس) لوگ ہو
تفسیر
فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ وَاتَّبِعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡـتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ
آیت کے مطابق فرشتوں نے سیدنا لوطؑ کو کیا پیغام پہنجایا؟
پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کچھ حصہ میں لے کر نکل جائیے اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلئے اور تم میں سے کوئی مڑ کر پیچھے نہ دیکھے اور چلے جائیے جہاں کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے
پیغام کے اہم نکات
وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ۔ وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ
ترجمہ اور آیت میں بیان کردہ قوم کا تعارف اور احوال بیان کریں
اور بیشک وادی حجر کے رہنے والوں (قوم ثمود) نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں (معجزات) دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے
سورۃ الحجر کی آیات 80 اور 81 میں قوم ثمود (اصحاب الحجر) کا ذکر ہے جنہوں نے حضرت صالح علیہ السلام اور تمام انبیاء کی تکذیب کی، اللہ کی نشانیاں ملنے پر منہ موڑا، اور سرکشی اختیار کی
اصحاب الحجر (قوم ثمود) کا تعارف و احوال
فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ۔ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ
آیات کریمہ میں حجر والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟
تو صبح ہوتے ہی انہیں ایک خوفناک کڑک (چنگھاڑ) نے آ دبوچا۔ اور جو کچھ وہ کماتے تھے (یا محنتیں کرتے تھے) وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکا
حجر والوں کا انجام اور ہمارے لیے اسباق
سورۃ الحجر کی روشنی میں اہل جنت کے انعامات کی فہرست لکھیں
سورۃ الحجر (آیات 45 تا 50) کی روشنی میں اہل جنت کے اہم انعامات باغات اور چشمے، سلامتی اور امن اور دلوں سے کینہ کا خاتمہ ہیں
جنت کے انعامات
سورۃ الفاتحہ اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کے حوالے سے چند احادیث لکھیں
سورۃ الفاتحہ اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کے بارے میں احادیث درج ذیل ہیں سورۃ الفاتحہ تمام قرآنی سورتوں میں سب سے افضل ہے اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
سورۃ الفاتحہ کی فضیلت اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت
واحفض جناحک للمؤمنین "کی روشنی میں ایک راہنما کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ کیا انداز اختیار کرنا چاہیے،نیز اس کے حوالے سے آپﷺ کی سیرت میں ہمارے لیے کیا راہنمائی ہے؟
آیت واخفض جناحك للمؤمنین" (اور مومنین کے لیے اپنا بازو جھکاؤ) کا تقاضا ہے کہ راہنما اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی، انکساری اور شفقت کا انداز اپنائے
راہنما کا مطلوبہ انداز اور آپﷺ کی سیرتِ طیبہ سے راہنمائی
سیدنا ابراہیمؑ کے پاس آنے والے مہمانوں کا واقعہ ،اس واقعہ سے ہمارے لیے راہنمائی نیز احادیث میں مہمان نوازی کی کیا فضیلت بیان ہوئی ہے ؟
سیدنا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا واقعہ قرآن مجید (سورۃ الذاریات اور سورۃ ہود) کے مطابق، فرشتے انسانی شکل میں سیدنا ابراہیمؑ کے پاس آئے اور سلام کیا، آپ نے بھی سلام کا جواب دیا۔ آپ نے انہیں اجنبی محسوس کیا تو فوراً بغیر بتائے چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گئے۔ آپ نے ایک موٹا تازہ بھنا ہوا بچھڑا تیار کیا اور فراً ان کے سامنے لا کر رکھا اور کھانے کی دعوت دی جب مہمانوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو آپ کو ان سے کچھ خوف محسوس ہوا، تب انہوں نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ اللہ کے فرشتے ہیں اور آپ کو حضرت اسحاقؑ کی پیدائش کی بشارت دی نیز قومِ لوط پر عذاب کا ارادہ ظاہر کیا
واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی اور احادیث میں مہمان نوازی کی فضیلت
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔