دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 14: سبق 14: سورۃ الحجر (آیات 45 تا 99) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّتٍ وَعُيُونٍ

آیت کی رو سے پرہیز گار لوگ کہاں ہوں گے؟

ترجمہ

بیشک متقی (پرہیزگار) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

سورۃ الحجر کی آیت نمبر 45 کے مطابق پرہیزگار (متقی) لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

اہم نکات

1 مقام — جنت کے باغات اور بہتے ہوئے چشمے۔
2 اگلی آیت کا حکم — انہیں سلامتی اور امن کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کا کہا جائے گا۔
2 مختصر جوابات

نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔ وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الأَلِيمُ

آیات میں نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں تک کیا پیغام پہنچانے کی ہدایت فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

(اے نبی!) میرے بندوں کو خبر دے دو کہ بیشک میں ہی بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہوں۔ اور یہ کہ میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرکی آیات 49 اور 50 میں اپنے نبی ﷺ کو یہ پیغام دینے کا حکم دیا ہے کہ اللہ کی رحمت کی بشارت دیں اور اس کے عذاب سے ڈرائیں

پیغام کی تفصیل اور ہدایت

1 رحمت کا بیان — اللہ تعالیٰ کے غفور و رحیم ہونے کا یقین دلانا تاکہ بندے توبہ کریں اور مایوس نہ ہوں۔
2 عذاب کا انذار — نافرمانوں کو اللہ کے دردناک عذاب سے خبردار کرنا تاکہ وہ گناہوں سے رک جائیں۔
3 ترغیب و تہییب (رجاء و خوف) — بندوں کے دلوں میں امید اور خوف کا توازن قائم کرنا تاکہ وہ اطاعت کی طرف آئیں۔
3 مختصر جوابات

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِينَ۔ فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ

آیات کی رو سے سیدنا لوط ؑ کی نافرمان قوم کا کیا انجام ہوا؟

ترجمہ

تو سورج نکلتے وقت ایک سخت آواز (چیخ) نے انہیں آ لیا۔ پھر ہم نے اس بستی کے اوپر کے حصے کو نیچے کا حصہ کر دیا اور ان پر کھنگر (پتھریلی مٹی) کے پتھر برسائے

قومِ لوط کا انجام

1 وقت کا تعیین — عذاب کا یہ ہولناک واقعہ صبح کے وقت عین اس وقت آیا جب سورج طلوع ہو رہا تھا
2 پہلا عذاب (الصيحة) — انہیں ایک انتہائی خوفناک اور بہرہ کر دینے والی زور دار آواز نے آ لیا جس سے ان کے ہوش اڑ گئے۔
3 دوسرا عذاب (زیر و زبر) — اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو الٹ دیا یعنی اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر کر دیا۔
4 تیسرا عذاب (پتھروں کی بارش) — ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں اور کنکروں کی بارش کی گئی جو ان کی تباہی پر برسائے گئے۔
4 مختصر جوابات

وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ

آیت میں آپﷺ کو کیا نعمت عطا فرمانے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

ور بیشک ہم نے آپ کو سات آیتیں (جو بار بار پڑھی جاتی ہیں یعنی سورۂ فاتحہ) اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے

عطا کردہ نعمتیں

1 سبع مثانی (سات بار بار پڑھی جانے والی آیات) — اس سے مراد جمہور مفسرین اور احادیث کی روشنی میں سورۃ الفاتحہ ہے جو نماز کی ہر رکعت میں بار بار دہرائی جاتی ہے۔
2 القرآن العظیم (عظیم الشان قرآن) — پوری کتابِ حکت اور الہٰی کلام جو آپ ﷺ پر نازل ہوا
5 مختصر جوابات

فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ

آیت کی رو سے نبی ﷺ کو کیا تلقین فرمائی گئی ہے؟

ترجمہ

پس آپ وہ بات اعلانیہ کہہ دیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لیجیے

آیت کی رو سے نبی ﷺ کو دی گئی تلقین و احکام

1 اعلانیہ تبلیغ کا حکم — آپ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اب اللہ کا پیغام اور توحید کی دعوت چھپ کر نہیں بلکہ بالکل صاف، ببانگِ دہل اور کھلم کھلا لوگوں تک پہنچائیں۔
2 خوف و رعایت سے بے پرواہی — تبلیغِ دین کے راستے میں کسی ڈر، خوف یا کسی کی رو رعایت کو خاطر میں نہ لائیں۔
3 مشرکین سے اعراض — جو لوگ شرک پر اڑے رہیں اور مذاق اڑائیں، ان کی باتوں کی پروا نہ کریں اور ان کے الجھاوے سے درگزر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَّ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ

ترجمہ اور مفہوم کریں

ترجمہ

ور ہم ان کے سینوں میں جو کچھ کینہ (یا رنجش) ہوگی وہ کھینچ لیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بنے ہوئے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے

تفسیر خلاصہ

1 دلوں کی صفائی — دنیا کی زندگی میں انسانوں (حتیٰ کہ نیک لوگوں) کے درمیان بعض اوقات غلط فہمیوں، رنجشوں یا دنیاوی اسباب کی وجہ سے دلوں میں کچھ میل یا کدورت رہ جاتی ہے۔ جب یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ ان کے سینوں سے ہر قسم کا بغض، حسد اور کینہ بالکل پاک صاف کر دے گا۔
2 بھائی چارہ — جنتی لوگ آپس میں سچے بھائیوں کی طرح ہوں گے۔ ان کے دل ایک دوسرے کی طرف سے بالکل صاف اور آئینے کی طرح شفاف ہوں گے۔
3 آمنے سامنے نشست — وہ قیمتی تختوں (سرر) پر اس طرح بیٹھے ہوں گے کہ ان کے تخت آمنے سامنے ہوں گے۔ کوئی کسی کی پیٹھ پیچھے نہیں ہوگا، جو کہ باہمی محبت، مکمل اطمینان اور دوستی کی کامل علامت ہے
7 تفصیلی جوابات

وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ ضَيۡفِ اِبۡرٰهِيۡمَ​ۘ۔ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ۔ قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيمٍ

آیات کی روشنی میں سیدنا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا واقعہ بیان کریں

ترجمہ

اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام! ابراہیم (ؑ) نے کہا: ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتاہے۔ انہوں نے کہا: ڈریے نہیں، ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں

ایک دن سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اچانک چند نامعلوم افراد آپ کے ہاں مہمان بن کر آئے۔ یہ انسان نہیں تھے، بلکہ اللہ کے مقرب فرشتے تھے جو انسانی روپ دھار کر آئے تھے۔

1 معزز مہمانوں کی اچانک آمد — وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ ترجمہ: "اور انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا حال سنا دو۔" (آیت: 51)
2 مہمانوں کا سلام اور سیدنا ابراہیمؑ کا خوف — گھر میں داخل ہوتے ہی ان مہمانوں نے روایتی انداز میں سیدنا ابراہیمؑ کو سلام کیا۔ آپ نے سلام کا جواب دیا، لیکن جب آپ نے ان کے سامنے کھانا (بچھڑے کا گوشت) پیش کیا اور انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا، تو آپ کے دل میں ایک گہرا خوف پیدا ہو گیا۔ اس زمانے میں یہ روایت تھی کہ اگر مہمان کھانا نہ کھائے، تو اس کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ کسی دشمنی یا نقصان کے ارادے سے آیا ہے۔ آپ نے ان سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
3 مہمانوں کا سلام اور سیدنا ابراہیمؑ کا خوف — إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ إِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُونَ ترجمہ۔جب وہ اس کے پاس آئے تو کہا: سلام! ابراہیم (ؑ) نے کہا: ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔" (آیت: 52)
4 خوف کا خاتمہ اور عظیم خوشخبری — فرشتوں نے جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھے، تو انہوں نے فوراً اپنی اصل پہچان ظاہر کی اور آپ کو تسلی دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو ہم سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم کوئی نقصان پہنچانے نہیں آئے، بلکہ اللہ کی طرف سے آپ کو ایک ایسے بیٹے کی ولادت کی خوشخبری دینے آئے ہیں جو بڑا ہو کر بہت علم والا بنے گا۔ یہ خوشخبری سیدنا اسحاق علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں تھی۔
جواب قَالُوا لَا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ عَلِيم انہوں نے کہا: ڈریے نہیں، ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں
8 تفصیلی جوابات

فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ۔ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنكَرُونَ

ترجمہ اور مفہوم

ترجمہ

پھر جب لوط کے گھر والے (پاس) فرشتے آئے۔ آپ نے فرمایا: بے شک تم لوگ اجنبی (ناشناس) لوگ ہو

تفسیر

جواب جب اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ اپنی بستی کے لوگوں کی بری عادت (بدکاری) سے ڈر گئے کہ کہیں یہ مہمان ان کی درندگی کا شکار نہ ہو جائیں۔ اس لیے آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا کہ تم اجنبی ہو اور میں تمہیں پہچانتا نہیں۔
9 تفصیلی جوابات

فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ وَاتَّبِعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡـتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ

آیت کے مطابق فرشتوں نے سیدنا لوطؑ کو کیا پیغام پہنجایا؟

ترجمہ

پس آپ اپنے گھر والوں کو رات کے کچھ حصہ میں لے کر نکل جائیے اور آپ خود ان کے پیچھے پیچھے چلئے اور تم میں سے کوئی مڑ کر پیچھے نہ دیکھے اور چلے جائیے جہاں کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے

پیغام کے اہم نکات

1 رات کا سفر — بستی پر عذاب آنے سے پہلے رات کی تاریکی میں روانہ ہونے کا حکم
2 نگرانی اور حفاظت — سیدنا لوطؑ کا قافلے کے آخر میں یا پیچھے رہنا تاکہ سب کی خبر گیری کی جا سکے۔
3 پیچھے نہ دیکھنا — خوف یا ہولناک منظر کی تاب لانے کے لیے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ممانعت۔
4 مقررہ سمت — بغیر رکے سیدھے اس مقام کی طرف بڑھتے جانا جس کی طرف اللہ کی طرف سے ہدایت تھی
10 تفصیلی جوابات

وَلَقَدْ كَذَّبَ أَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِينَ۔ وَآتَيْنَاهُمْ آيَاتِنَا فَكَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ

ترجمہ اور آیت میں بیان کردہ قوم کا تعارف اور احوال بیان کریں

ترجمہ

اور بیشک وادی حجر کے رہنے والوں (قوم ثمود) نے رسولوں کو جھٹلایا۔ اور ہم نے انہیں اپنی نشانیاں (معجزات) دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے

سورۃ الحجر کی آیات 80 اور 81 میں قوم ثمود (اصحاب الحجر) کا ذکر ہے جنہوں نے حضرت صالح علیہ السلام اور تمام انبیاء کی تکذیب کی، اللہ کی نشانیاں ملنے پر منہ موڑا، اور سرکشی اختیار کی

اصحاب الحجر (قوم ثمود) کا تعارف و احوال

1 مقامِ سکونت — حجر وہ وادی ہے جو مدینہ منورہ اور شام/تبوک کے درمیان واقع ہے جہاں قومِ ثمود آباد تھی۔
2 رسولوں کی تکذیب — قرآن مجید نے فرمایا کہ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا، کیونکہ کسی ایک نبی کا انکار تمام انبیائے کرام کا انکار مانا جاتا ہے کیونکہ سب کی دعوت ایک ہی تھی۔
3 اللہ کی نشانیاں — اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی واضح نشانیاں اور دلائل عطا کیے تھے، مگر وہ ان سب سے منہ موڑ گئے اور غفلت کی زندگی اختیار کی۔
جواب قوم ثمود کاانجام ۔ صیحہ یعنی چنگھاڑ کا عذاب ان پر نا زل ہوا
11 تفصیلی جوابات

فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُصْبِحِينَ۔ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ

آیات کریمہ میں حجر والوں کا کیا انجام بیان ہوا ہے اور اس میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

ترجمہ

تو صبح ہوتے ہی انہیں ایک خوفناک کڑک (چنگھاڑ) نے آ دبوچا۔ اور جو کچھ وہ کماتے تھے (یا محنتیں کرتے تھے) وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آ سکا

حجر والوں کا انجام اور ہمارے لیے اسباق

1 حجر والوں کا انجام — اچانک عذاب — وہ اپنے پہاڑوں کو تراش کر مضبوط اور محفوظ گھر بناتے تھے اور خود کو بالکل نڈر اور محفوظ سمجھتے تھے، مگر عذاب نے انہیں غفلت کی حالت میں صبح کے وقت اچانک آ لیا۔
2 حجر والوں کا انجام — بے بسی — ان کے محلات، طاقت، مال اور دنیاوی اسباب اللہ کے عذاب کو نہ ٹال سکے اور وہ سب ہلاک ہو گئے۔
3 ہمارے لیے اسباق — سرکشی کا انجام — انبیاء کرام کی تکذیب اور اللہ کے احکام سے منہ موڑنے کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔
4 ہمارے لیے اسباق — طاقت کا غرور فانی — انسان کی بنائی ہوئی مضبوط عمارتیں اور مادی وسائل اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتے۔
5 ہمارے لیے اسباق — عبرت کا مقام — ماضی کی ظالم قوموں کے انجام سے سبق سیکھنا چاہیے کہ غفلت کی زندگی زیادہ دیرپا نہیں ہوتی

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سورۃ الحجر کی روشنی میں اہل جنت کے انعامات کی فہرست لکھیں

سورۃ الحجر (آیات 45 تا 50) کی روشنی میں اہل جنت کے اہم انعامات باغات اور چشمے، سلامتی اور امن اور دلوں سے کینہ کا خاتمہ ہیں

جنت کے انعامات

1 باغات اور چشمے — جنت میں نماياں باغات اور بہتے ہوئے چشمے ہوں گے
2 سلامتی کا حکم — فرشتوں کی طرف سے سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہونے کا اذن ملے گا۔
3 کینہ کا اخراج — سینوں سے بغض اور کینہ بالکل نکال دیا جائے گا۔
4 بھائی چارہ — سب بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے۔
5 تھکاوٹ سے دوری — وہاں نہ تھکن ہوگی اور نہ ہی انہیں کبھی نکالا جائے گا۔
13 سرگرمیاں

سورۃ الفاتحہ اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کے حوالے سے چند احادیث لکھیں

سورۃ الفاتحہ اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت کے بارے میں احادیث درج ذیل ہیں سورۃ الفاتحہ تمام قرآنی سورتوں میں سب سے افضل ہے اور قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جو دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

سورۃ الفاتحہ کی فضیلت اور قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت

1 سورۃ الفاتحہ کی فضیلت — اعظم سورۃ — نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوسعید بن المعلی سے فرمایا کہ میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے وہ سورۃ سکھاؤں گا جو قرآن مجید کی سب سے عظمت والی سورۃ ہے، اور وہ "الحمد للہ رب العالمين" (سورۃ الفاتحہ) ہے۔
2 سورۃ الفاتحہ کی فضیلت — نور اور خیر — حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب ایک فرشتہ آسمان سے نازل ہوا تو اس نے کہا: اس دروازے کی خوشخبری سنو جو آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا، وہ سورۃ الفاتحہ کا نور ہے۔
3 سورۃ الفاتحہ کی فضیلت — شفاء اور قبولیت — اس سورت کو ام القرآن کہا گیا ہے اور نماز ہر رکعت میں اس کا پڑھنا فرض ہے، جو بندے اور اللہ کے درمیان دعا کا بہترین ذریعہ ہے۔
4 قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت —  بہترین شخص — نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے" (صحیح بخاری)۔
5 قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت —  شفاعت — آپ ﷺ نے فرمایا: "قرآن پڑھو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا" (صحیح مسلم)۔
6 قرآن مجید کی عظمت اور فضیلت —  درجات کی بلندی — اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے قوموں کو بلند کرتا ہے اور جو اس پر عمل کرے اسے دنیا و آخرت میں عزت ملتی ہے۔
14 سرگرمیاں

واحفض جناحک للمؤمنین "کی روشنی میں ایک راہنما کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ کیا انداز اختیار کرنا چاہیے،نیز اس کے حوالے سے آپﷺ کی سیرت میں ہمارے لیے کیا راہنمائی ہے؟

آیت واخفض جناحك للمؤمنین" (اور مومنین کے لیے اپنا بازو جھکاؤ) کا تقاضا ہے کہ راہنما اپنے ماتحتوں کے ساتھ نرمی، انکساری اور شفقت کا انداز اپنائے

راہنما کا مطلوبہ انداز اور آپﷺ کی سیرتِ طیبہ سے راہنمائی

1 راہنما کا مطلوبہ انداز — نرمی اور عاجزی — ماتحتوں کے ساتھ تبرّی یا تکبر کے بجائے عاجزی کا رویہ رکھنا۔
2 راہنما کا مطلوبہ انداز — شفقت و محبت — کارکنوں کو بھائیوں یا اولاد کی طرح سمجھنا اور ان کی غلطیوں پر درگزر سے کام لینا۔
3 راہنما کا مطلوبہ انداز — حسنِ سلوک — بات چیت میں نرمی اور رویے میں قربت پیدا کرنا تاکہ ماتحت بلاجھجھک اپنی بات کہہ سکیں۔
4 آپﷺ کی سیرتِ طیبہ سے راہنمائی — غلاموں اور خادموں کے ساتھ حسنِ سلوک — حضرت انس بن مالكؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دس سال آپﷺ کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے "اف" تک نہیں کہا اور نہ کبھی یہ پوچھا کہ یہ کام کیوں کیا یا کیوں نہیں کیا۔
5 آپﷺ کی سیرتِ طیبہ سے راہنمائی — مشاورت (شوریٰ) — غزوات اور اہم امور میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرماتے اور ان کی آراء کا احترام کرتے، جس سے ماتحتوں کا اعتماد بڑھتا ہے۔
6 آپﷺ کی سیرتِ طیبہ سے راہنمائی — عفو و درگزر — فتحِ مکہ اور دیگر مواقع پر دشمنوں اور ماتحتوں کی خطاؤں کو معاف فرما کر اعلیٰ ظرفی کی عملی مثال قائم کی۔
15 سرگرمیاں

سیدنا ابراہیمؑ کے پاس آنے والے مہمانوں کا واقعہ ،اس واقعہ سے ہمارے لیے راہنمائی نیز احادیث میں مہمان نوازی کی کیا فضیلت بیان ہوئی ہے ؟

سیدنا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا واقعہ قرآن مجید (سورۃ الذاریات اور سورۃ ہود) کے مطابق، فرشتے انسانی شکل میں سیدنا ابراہیمؑ کے پاس آئے اور سلام کیا، آپ نے بھی سلام کا جواب دیا۔ آپ نے انہیں اجنبی محسوس کیا تو فوراً بغیر بتائے چپکے سے اپنے گھر والوں کی طرف گئے۔ آپ نے ایک موٹا تازہ بھنا ہوا بچھڑا تیار کیا اور فراً ان کے سامنے لا کر رکھا اور کھانے کی دعوت دی جب مہمانوں نے ہاتھ نہیں بڑھایا تو آپ کو ان سے کچھ خوف محسوس ہوا، تب انہوں نے اپنا تعارف کرایا کہ وہ اللہ کے فرشتے ہیں اور آپ کو حضرت اسحاقؑ کی پیدائش کی بشارت دی نیز قومِ لوط پر عذاب کا ارادہ ظاہر کیا

واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی اور احادیث میں مہمان نوازی کی فضیلت

1 واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی — پرتپاک استقبال — مہمان کو دیکھتے ہی خوشی کا اظہار کرنا اور سلام میں پہل کرنا۔
2 واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی — تعیلِ تواضع (جلدی کرنا) — مہمان کے کھانے اور آرام کا سامان بغیر تاخیر اور بغیر شور مچائے مہیا کرنا۔
3 واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی — بہترین ضیافت — جو عمدہ چیز گھر میں موجود ہو، اسے اچھے انداز میں مہمان کے آگے پیش کرنا۔
4 واقعہ سے حاصل ہونے والی راہنمائی — خود خدمت کرنا — گھر کا بڑا یا صاحبِ خانہ خود اپنے ہاتھوں سے مہمان کی خدمت کرے
5 احادیث میں مہمان نوازی کی فضیلت — ایمان کی علامت — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت اور قدر کرے۔
6 احادیث میں مہمان نوازی کی فضیلت — خیر و برکت کا نزول — آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں مہمان آتا ہے، اس گھر میں خیر و برکت اتنی تیزی سے نازل ہوتی ہے جتنی تیزی سے اونٹ کی کوہان پر چھری چلتی ہے۔
7 احادیث میں مہمان نوازی کی فضیلت — مہمان نوازی کی مدت — فرمانِ مصطفیٰ ﷺ ہے کہ مہمان نوازی تین دن تک ہے، اور اس کا خاص اہتمام ایک دن اور ایک رات ہے، اس کے بعد جو کچھ ہو وہ صدقہ ہے

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.