لَو مَا تَاتِینَا بِالمَلٰٓئِکَۃِ اِن کُنتَ مِنالصّٰدِقِینَ
آیت کی رو سے کفار نے نبی کریمﷺ سے کیا مطالبہ کیا ؟
آپ ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے، اگر آپ سچے لوگوں میں سے ہیں؟
آیت کی رو سے کفار کا مطالبہ
دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ
لَو مَا تَاتِینَا بِالمَلٰٓئِکَۃِ اِن کُنتَ مِنالصّٰدِقِینَ
آیت کی رو سے کفار نے نبی کریمﷺ سے کیا مطالبہ کیا ؟
آپ ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے، اگر آپ سچے لوگوں میں سے ہیں؟
آیت کی رو سے کفار کا مطالبہ
رُّبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ
آیت کے مطابق قیامت کے دن کفار کس بات کی آرزو کریں گے؟
کافر بہت آرزوئیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے
قیامت کے دن کفار کی آرزو کی وضاحت
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
آیت میں حفاظت قرآن کے متعلق کیا بیان ہوا ہے
بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت (قرآن) نازل کی ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
حفاظتِ قرآن کے متعلق بیان
وَ لْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ
آیت میں اللہ نے زمین کو پھیلانے کا کیا مقصد بیان کیا ہے؟
اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور ہم نے اس میں لنگر (پہاڑ) ڈال دیئے اور اس میں ہر چیز ایک معین اندازے سے اگائی
سورۃ الحجر کی آیت نمبر 19 میں اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلانے کا مقصد انسانوں اور تمام جانداروں کے لیے زندگی، سکون اور رزق کے قابل بنانا بیان کیا ہے تاکہ اس پر چل پھر سکیں، کاشتکاری ہو سکے اور زندگی کا توازن قائم رہے۔
زمین کو پھیلانے اور سنوارنے کے اہم مقاصد
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّن حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
آیت کی رو سے انسان کو کس چیز سے پیدا فرمانے کا ذکر ہے؟
اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار سیاہ کیچڑ سے (بنائی گئی تھی
سورۃ الحجر کی آیت نمبر 26 کے مطابق انسان کو سڑے ہوئے گارے (بدبودار کیچڑ) کی کھنکھناتی ہوئی (خشک) مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر ہے
تخلیقِ انسان کی تفصیل (آیت کی روشنی میں)
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ۔وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ
آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں
اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں کے گروہوں میں بھی رسول بھیجے تھے۔ اور ان کے پاس کوئی بھی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے
تفسیر
فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ
آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں
تو فرشتوں نے سب کے سب نے، تمام نے سجدہ کیا۔سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا
تفسیر
قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوَيْنَّهُمْ أَجْمَعِينَ۔إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں
اس نے کہا: اے میرے رب! اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوشنما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا۔سوائے تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے خالص کر لیا ہے
تفسیر
اِنَّ عِبَادِی لَیسَ لَكَ عَلَیهِم سُلطنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ۔وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجمَعِینَ
آیات کریمہ کے مطابق شیطان کا زور جن لوگوں پر نہیں چلتا اور شیطان کے پیروکاروں کا کیا انجام ہو گا؟
بے شک، جو میرے (حقیقی) بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا، تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں۔ اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے
جن لوگوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا اور شیطان کے پیروکاروں کا انجام
سورۃ الحجر کی روشنی میں بتائیں شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنے کن عزائم کا اظہار کیا ؟
سورۃ الحجر کے مطابق، شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے، ان کے اعمال کو خوشنما بنا کر پیش کرنے اور سب کو بہکانے کا اعلان کیا۔ اس کے اہم عزائم یہ ہیں: زمین میں گناہوں کو مزین کرنا، تمام انسانوں کو بہکانا، اور اخلاص والے بندوں کے علاوہ سب کو گمراہ کرنا
شیطان کے عزائم
سورۃ الحجرکی آیت 19 اور 20 کی روشنی میں زمین سے حاصل ہونے والی نعمتوں کی فہرست لکھیں
سورۃ الحجر کی آیات 19 اور 20 کے مطابق زمین سے حاصل ہونے والی اہم نعمتیں یہ ہیں: پہاڑ، ہر قسم کی متوازن چیزیں (نباتات، پھل، اور غلے)، اور انسانوں اور جانوروں کے لیے رزق کے ذرائع
زمین کی نعمتیں
شیطان سے سجدے سے انکار ، اس کی دشمنی ،اس کے حملوں اور ان سے بچنے کی تدابیر اور حاصل ہونے والے اسباق لکھیں
شیطان کا سجدہ آدم سے انکار اس کا غرور تھا، جو اس کی ازلی دشمنی اور انسان پر مسلسل حملوں کی وجہ بنا۔ اس سے بچنے کے لیے ذکر الٰہی، توبہ اور تقویٰ لازم ہے، جبکہ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ تکبر تباہی لاتا ہے اور اللہ کی نافرمانی انسان کو گمراہ کر دیتی ہے
قرآن و سنت کی روشنی میں حفاظت قرآن پر نوٹ لکھیں
قرآنِ کریم کی حفاظت کا نظام کائنات کا سب سے منفرد اور مستند ترین نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی حفاظت کے لیے کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کیا، بلکہ حفظ (سینوں) اور کتابت (تحریر) دونوں کو بیک وقت استعمال فرمایا ذیل میں قرآن و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کی تفصیلی وضاحت موجود ہے:
یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔