دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 13: سبق 13: سورۃ الحجر — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 13 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

لَو مَا تَاتِینَا بِالمَلٰٓئِکَۃِ اِن کُنتَ مِنالصّٰدِقِینَ

آیت کی رو سے کفار نے نبی کریمﷺ سے کیا مطالبہ کیا ؟

ترجمہ

آپ ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے، اگر آپ سچے لوگوں میں سے ہیں؟

آیت کی رو سے کفار کا مطالبہ

1 فرشتوں کا مطالبہ — کافروں نے استہزا (مذاق) کے طور پر کہا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں تو خدا کے فرشتے ہم پر عذاب لے کر آئیں یا ہمارے سامنے گواہی دیں۔
2 نشانی کی ضد — وہ اللہ کے عذاب یا فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ہٹ دھرمی کر رہے تھے، حالانکہ عذاب آنے کے بعد مہلت ختم ہو جاتی ہے۔
2 مختصر جوابات

رُّبَمَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِیْنَ

آیت کے مطابق قیامت کے دن کفار کس بات کی آرزو کریں گے؟

ترجمہ

کافر بہت آرزوئیں کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے

قیامت کے دن کفار کی آرزو کی وضاحت

1 حسرت و ندامت — کفار جہنم کا عذاب دیکھ کر اور مسلمانوں کو اللہ کی رحمت سے جنت میں جاتے دیکھ کر بار بار یہ تمنا اور حسرت کریں گے کہ کاش وہ بھی دنیا میں ایمان لائے ہوتے اور مسلمان ہوتے
2 موقع کا احساس — یہ آرزو وہ میدانِ محشر میں، عذاب کے وقت یا گنہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بار بار کریں گے، لیکن اس وقت کی یہ آرزو ان کے لیے بالکل بے سود اور ناکام ہوگی
3 مختصر جوابات

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

آیت میں حفاظت قرآن کے متعلق کیا بیان ہوا ہے

ترجمہ

بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت (قرآن) نازل کی ہے اور بے شک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں

حفاظتِ قرآن کے متعلق بیان

1 ذمہ داری — اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا کام کسی انسان یا فرشتے کے سپرد کرنے کے بجائے خود اپنے ذمے لیا ہے۔
2 نوعیتِ حفاظت — قرآن مجید کو ہر قسم کی تحریف، تبدیلی، کمی، زیادتی اور دستِ بردِ زمانہ سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔
3 انفرادی اعزاز — پچھلی آسمانی کتابوں کی حفاظت کا ایسا واضح اور قطعی ذمہ اللہ نے نہیں لیا تھا، لیکن قرآن مجید کے لیے اپنی ذاتِ قدیری کا یہ پکا وعدہ فرمایا کہ قیامت تک اس کا ایک ایک حرف اور زبر پیش بھی اپنی اصل حالت پر برقرار رہے گا
4 مختصر جوابات

وَ لْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَاَنْبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ

آیت میں اللہ نے زمین کو پھیلانے کا کیا مقصد بیان کیا ہے؟

ترجمہ

اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور ہم نے اس میں لنگر (پہاڑ) ڈال دیئے اور اس میں ہر چیز ایک معین اندازے سے اگائی

سورۃ الحجر کی آیت نمبر 19 میں اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلانے کا مقصد انسانوں اور تمام جانداروں کے لیے زندگی، سکون اور رزق کے قابل بنانا بیان کیا ہے تاکہ اس پر چل پھر سکیں، کاشتکاری ہو سکے اور زندگی کا توازن قائم رہے۔

زمین کو پھیلانے اور سنوارنے کے اہم مقاصد

1 زندگی اور سکون کی جگہ — زمین کو کشادہ اور ہموار اس لیے کیا تاکہ انسان اس پر باسانی رہائش رکھ سکیں، کاروبار اور نقل و حرکت کر سکیں۔
2 پہاڑوں کے ذریعے استحکام — زمین میں مضبوط پہاڑ بطورِ لنگر رکھے تاکہ یہ ہل نہ سکے اور اس پر بسنے والوں کو توازن فراہم ہو۔
3 متوازن رزق کی فراہمی — زمین میں ہر شے نپی تلی اور مناسب مقدار (موزون) میں اگائی تاکہ کسی چیز کی کمی یا زیادتی نظامِ حیات کو خراب نہ کرے۔
5 مختصر جوابات

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّن حَمَإٍ مَّسْنُونٍ

آیت کی رو سے انسان کو کس چیز سے پیدا فرمانے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور بلاشبہ ہم نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار سیاہ کیچڑ سے (بنائی گئی تھی

سورۃ الحجر کی آیت نمبر 26 کے مطابق انسان کو سڑے ہوئے گارے (بدبودار کیچڑ) کی کھنکھناتی ہوئی (خشک) مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر ہے

تخلیقِ انسان کی تفصیل (آیت کی روشنی میں)

1 حمأ مسنون (بدبودار سیاہ کیچڑ) — یہ وہ مٹی یا گارا تھا جو پڑا رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو گیا تھا اور اس میں تبدیلی آ گئی تھی۔اور اس گارے سے بو آنے لگی
2 صلصال (بجنے والی خشک مٹی) — جب وہ سیاہ اور بدبودار کیچڑ سوکھ گئی تو وہ ٹھوس اور خشک مٹی بن گئی
3 اس سوکھی ہوئی مٹی کی یہ خاصیت تھی کہ اسے ہاتھ لگایا جائے یا ٹھوکا جائے تو اس سے ٹھن ٹھن کی آواز (بجنے کی سی آواز) پیدا ہوتی تھی

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ شِيَعِ الْاَوَّلِيْنَ۔وَمَا يَاْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور بلاشبہ ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں کے گروہوں میں بھی رسول بھیجے تھے۔ اور ان کے پاس کوئی بھی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے

تفسیر

1 نبی کریم ﷺ کی دلجوئی — اللہ تعالی مکہ کے کافروں کی طرف سے آپ ﷺ کی تکذیب اور استہزاء پر آپ کی ڈھارس بندھارہا ہے۔
2 پرانی سنتِ الٰہی — شيع الأولين" سے مراد پچھلی قوموں کے فرقے اور گروہ ہیں۔ ہر دور کے نافرمانوں کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ جب بھی کوئی حق کی بات لے کر آیا، انہوں نے تمسخر اور استہزاء کی راہ چنی۔
3 تسلی کا پہلو — مقصد یہ ہے کہ اے محمد ﷺ! آپ اکیلے نہیں ہیں جن کا مذاق اڑایا جارہا ہے، بلکہ یہ تمام انبیاء کا مشترکہ تجربہ ہے، لہٰذا آپ صبر کریں
7 تفصیلی جوابات

فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ۔إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ أَن يَكُونَ مَعَ السَّاجِدِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

تو فرشتوں نے سب کے سب نے، تمام نے سجدہ کیا۔سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کر دیا

تفسیر

جواب جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی مٹی کے پتلے میں اپنی طرف سے روح پھونکی، تو حکمِ الٰہی کے مطابق تمام فرشتوں نے بغیر کسی تاخیر یا پس و پیش کے فوراً سجدہ تعظیمی کیا۔ اس سے فرشتوں کی فرمانبرداری اور اطاعت شعاری ظاہر ہوتی ہے۔ تمام فرشتوں کے برعکس ابلیس (جو جنات میں سے تھا اور فرشتوں کی صف میں شامل تھا) نے تکبر، غرور اور حسد کی بنا پر سجدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کا یہ انکار حکمِ خداوندی کی نافرمانی اور اس کے باطن میں چھپے ہوئے کفر و غرور کا پہلا کھلا اظہار تھا۔
8 تفصیلی جوابات

قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوَيْنَّهُمْ أَجْمَعِينَ۔إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اس نے کہا: اے میرے رب! اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ زمین میں ان کے لیے گناہوں کو خوشنما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا۔سوائے تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے خالص کر لیا ہے

تفسیر

1 شیطان کی ڈھٹائی — ابلیس نے اپنی غلطی ماننے اور توبہ کرنے کے بجائے سارا الزام اللہ تعالیٰ پر ڈال دیا کہ تیری وجہ سے میں گمراہ ہوا۔
2 گناہوں کی آراستگی — شیطان نے قسم کھائی کہ وہ انسانوں کو دنیا کی محبت اور برے اعمال کو خوبصورت بنا کر دکھائے گا تاکہ وہ گناہوں میں لگ جائیں۔
3 مخلصین کا استثناء — شیطان نے خود اعتراف کیا کہ جو بندے اللہ کے خالص اور مخلص بندے بن جاتے ہیں، ان پر اس کا کوئی زور نہیں چلے گا۔
9 تفصیلی جوابات

اِنَّ عِبَادِی لَیسَ لَكَ عَلَیهِم سُلطنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ ٱلْغَاوِينَ۔وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجمَعِینَ

آیات کریمہ کے مطابق شیطان کا زور جن لوگوں پر نہیں چلتا اور شیطان کے پیروکاروں کا کیا انجام ہو گا؟

ترجمہ

بے شک، جو میرے (حقیقی) بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا، تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں۔ اور ان سب کے وعدے کی جگہ جہنم ہے

جن لوگوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا اور شیطان کے پیروکاروں کا انجام

1 جن لوگوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا — اللہ کے مخلص بندے — وہ لوگ جو اللہ کی توحید اور احکام پر پکا یقین رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔
2 جن لوگوں پر شیطان کا زور نہیں چلتا — فرمانبردار اور متقی لوگ — وہ جو گناہ سے بچتے ہیں اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کرتے ہیں۔
3 شیطان کے پیروکاروں کا انجام — جہنم کی سزا — شیطان کے پیچھے چلنے والے تمام گمراہ لوگوں کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے۔
4 شیطان کے پیروکاروں کا انجام — سب کی شمولیت — شیطان کے تمام پیروکار (جنہوں نے اس کی بات مانی اور حق کی راہ چھوڑی) ایک ساتھ اس عذاب میں داخل ہوں گے۔

سرگرمیاں

10 سرگرمیاں

سورۃ الحجر کی روشنی میں بتائیں شیطان نے انسانوں کے خلاف اپنے کن عزائم کا اظہار کیا ؟

سورۃ الحجر کے مطابق، شیطان نے انسانوں کو گمراہ کرنے، ان کے اعمال کو خوشنما بنا کر پیش کرنے اور سب کو بہکانے کا اعلان کیا۔ اس کے اہم عزائم یہ ہیں: زمین میں گناہوں کو مزین کرنا، تمام انسانوں کو بہکانا، اور اخلاص والے بندوں کے علاوہ سب کو گمراہ کرنا

شیطان کے عزائم

1 زمین میں گناہوں کو مزین کرنا — شیطان نے کہا کہ وہ انسانوں کے لیے گناہوں اور نافرمانیوں کو زمین میں دلکش اور خوبصورت بنا دے گا۔
2 سب کو گمراہ کرنا — اس نے قسم کھائی کہ وہ تمام انسانوں کو سیدھے راستے سے ہٹا دے گا
3 مخلصین سے عاجزی — اس نے اعتراف کیا کہ وہ اللہ کے چنے ہوئے اور مخلص بندوں کو گمراہ نہیں کر سکے گا۔
11 سرگرمیاں

سورۃ الحجرکی آیت 19 اور 20 کی روشنی میں زمین سے حاصل ہونے والی نعمتوں کی فہرست لکھیں

سورۃ الحجر کی آیات 19 اور 20 کے مطابق زمین سے حاصل ہونے والی اہم نعمتیں یہ ہیں: پہاڑ، ہر قسم کی متوازن چیزیں (نباتات، پھل، اور غلے)، اور انسانوں اور جانوروں کے لیے رزق کے ذرائع

زمین کی نعمتیں

1 پہاڑ — زمین کو مضبوطی سے جمانے والے اور اس پر لنگر کی طرح قائم رہنے والے پہاڑ
2 نباتات اور اشیاء — زمین سے ہر چیز کا ایک مقررہ اور متوازن مقدار (نپات) میں اگایا جانا۔
3 رزق — انسانوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور ذریعہ معاش۔
4 جانوروں کا چارہ — وہ وسائل اور رزق جن کے تم مالک نہیں ہو لیکن اللہ نے جانوروں اور مخلوق کے لیے پیدا کیے۔
12 سرگرمیاں

شیطان سے سجدے سے انکار ، اس کی دشمنی ،اس کے حملوں اور ان سے بچنے کی تدابیر اور حاصل ہونے والے اسباق لکھیں

شیطان کا سجدہ آدم سے انکار اس کا غرور تھا، جو اس کی ازلی دشمنی اور انسان پر مسلسل حملوں کی وجہ بنا۔ اس سے بچنے کے لیے ذکر الٰہی، توبہ اور تقویٰ لازم ہے، جبکہ اس سے سبق یہ ملتا ہے کہ تکبر تباہی لاتا ہے اور اللہ کی نافرمانی انسان کو گمراہ کر دیتی ہے

1 شیطان کا انکار اور دشمنی — حکم سے سرکش — اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور ابلیس کو حضرت آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا، مگر اس نے تکبر کیا اور خود کو آگ سے پیدا ہونے کی وجہ سے بہتر سمجھا۔
2 شیطان کا انکار اور دشمنی — ازلی دشمنی — اس انکار کی وجہ سے اسے بارگاہ الٰہی سے دھتکار دیا گیا، اور اس نے انسان کو اپنا سب سے بڑا دشمن مان کر اسے بھی گمراہ کرنے کی قسم کھائی۔
3 شیطان کے حملے — وسوسے ڈالنا — دل میں برے خیالات پیدا کرنا اور گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرنا۔
4 شیطان کے حملے — بہکاوہ اور فریب — انسان کو جھوٹی امیدیں دلانا اور نیکی کے راستے سے روکنا۔
5 بچنے کی تدابیر — ذکر الٰہی — اللہ کا نام لینے اور استغفار کرنے سے شیطان کمزور ہوتا ہے۔
6 بچنے کی تدابیر — تعوذ کا ورد — اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھنا۔
7 بچنے کی تدابیر — باوضو رہنا اور نماز — باقاعدگی سے عبادت کرنا اور تقویٰ اختیار کرنا۔
8 حاصل ہونے والے اسباق — تکبر کا انجام — تکبر اور غرور انسان کو برباد کر دیتا ہے۔
9 حاصل ہونے والے اسباق — اطاعت کی اہمیت — اللہ کے حکم کے آگے سر جھکانا ہی کامیابی ہے۔
10 حاصل ہونے والے اسباق — غفلت سے پرہیز — شیطان کی چالوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔
13 سرگرمیاں

قرآن و سنت کی روشنی میں حفاظت قرآن پر نوٹ لکھیں

قرآنِ کریم کی حفاظت کا نظام کائنات کا سب سے منفرد اور مستند ترین نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی حفاظت کے لیے کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کیا، بلکہ حفظ (سینوں) اور کتابت (تحریر) دونوں کو بیک وقت استعمال فرمایا ذیل میں قرآن و سنت اور تاریخی حقائق کی روشنی میں اس کی تفصیلی وضاحت موجود ہے:

1 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — قرآن مجید میں متعدد مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ اس کتاب کی حفاظت کی ذمہ داری کسی انسان پر نہیں بلکہ خود خالقِ کائنات پر ہے:
2 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — حفاظت کا ابدی وعدہ: سورۃ الحجر (آیت ۹) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
3 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾ (بیشک ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں۔)
4 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — جمع و قراءت کی ذمہ داری: رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تو آپؐ اسے یاد کرنے کے لیے جلدی جلدی دہراتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ القيامۃ (آیات ۱۷۔۱۸) میں فرمایا:
5 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — ﴿إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ ۝ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ﴾ (بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔ پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں۔)
6 ۱۔ قرآنِ کریم کی روشنی میں حفاظتِ قرآن — تبدیلی سے محفوظ — سورۃ فصلت (آیت ۴۲) میں بیان ہوا کہ باطل اس کے سامنے سے آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ حکمت والے کی نازل کردہ ہے۔
7 ۲۔ سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں حفاظتی اقدامات — نبی کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں حفاظتِ قرآن کے لیے دو بنیادی طریقے اختیار فرمائے:
8 الف) حفاظتِ قرآن بذریعہ حفظ (سینوں کا نظام) — ذاتی حفظ — رسول اللہ ﷺ خود سب سے پہلے وحی کو یاد فرماتے۔ ہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور (دہرائی) فرماتے تھے۔
9 الف) حفاظتِ قرآن بذریعہ حفظ (سینوں کا نظام) — صحابہ کی ترغیب — آپ ﷺ صحابہ کرام کو قرآن یاد کرنے کی سخت تاکید فرماتے۔ مسجدِ نبوی میں "اصحابِ صفہ" کا پورا مدرسہ اسی مقصد کے لیے وقف تھا جہاں سے قراء تیار ہوتے تھے۔
10 ب) حفاظتِ قرآن بذریعہ کتابت (تحریر کا نظام) — کتاب وحی کا تعیّن — جیسے ہی وحی نازل ہوتی، آپ ﷺ "کاتبینِ وحی" (جیسے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم) کو بلوا کر اسے لکھوا دیتے۔
11 ب) حفاظتِ قرآن بذریعہ کتابت (تحریر کا نظام) — ترتیب کی رہنمائی — آپ ﷺ خود بتاتے کہ فلاں آیت کو فلاں سورت میں کس آیت کے بعد رکھنا ہے، کیونکہ قرآن کی موجودہ ترتیب توقیفی (اللہ کی بتائی ہوئی) ہے۔
12 ۳۔ عہدِ صحابہ میں تدوین و اشاعت (عملی تسلسل) — رسول اللہ ﷺ کے وصال کے وقت پورا قرآن مجید صحابہ کے سینوں میں محفوظ تھا اور متفرق اشیاء (چمڑے، ہڈیوں، پتھروں اور کاغذ کے ٹکڑوں) پر لکھا ہوا تھا۔ اس کے بعد جمع و تدوین کے دو بڑے مرحلے آئے:
13 عہدِ صدیقی (پہلا مصحف) — سبب — جنگِ یمامہ میں ستر (۷۰) سے زائد جلیل القدر حفاظِ قرآن صحابہ شہید ہو گئے۔ حضرت عمر فاروقؓ کو اندیشہ ہوا کہ اگر حفاظ رخصت ہوتے گئے تو قرآن کا بڑا حصہ ضائع نہ ہو جائے (یعنی نقل میں دشواری نہ آئے)۔
14 عہدِ صدیقی (پہلا مصحف) — اقدام — حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی۔ انہوں نے انتہائی سخت اصولوں کے تحت (جس میں سینے کے حفظ اور دو گواہوں کی موجودگی میں تحریر کی تصدیق لازمی تھی) پورے قرآن کو ایک جگہ "صحیفوں" کی شکل میں جمع کیا۔
15 عہدِ عثمانی (سرکاری نسخے اور قراءت کا تحفظ) — سبب — اسلامی سلطنت دور دراز تک پھیل گئی۔ مختلف علاقوں کے لوگ اپنے اپنے لہجوں (قراءتوں) کے مطابق قرآن پڑھنے لگے، جس سے اختلافات کا خطرہ پیدا ہوا۔
16 عہدِ عثمانی (سرکاری نسخے اور قراءت کا تحفظ) — اقدام — حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے دور کے تیار کردہ مستند نسخے کو منگوایا۔ حضرت زید بن ثابتؓ کی نگرانی میں اس کی مزید کاپیاں تیار کروائیں۔
17 عہدِ عثمانی (سرکاری نسخے اور قراءت کا تحفظ) — نتیجہ — آپؓ نے ان مستند نسخوں کو سلطنت کے بڑے شہروں میں بھیجا اور ساتھ ایک قاری بھی روانہ کیا تاکہ وہ اسی لہجے (لہجہ قریش) میں پڑھائے۔ باقی تمام متفرق نسخے تلف کر دیے گئے تاکہ امت میں کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔ اسی لیے آپؓ کو "جامع القرآن" کہا جاتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.