دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 12: سبق 12: سورۃ ابراہیم (آیات 22 تا 52) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 15 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

أَلَم تَرَ كَيفَ ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي ٱلسَّمَآءِ

آیت میں کلمہ طیبہ کی عظمت کی کیا مثال دی گئی ہے؟

ترجمہ

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکیزہ بات کی مثال کس طرح بیان فرمائی؟ (وہ) ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے، جس کی جڑ زمین میں مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں

سورۃ ابراہیم (آیت 24) میں کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ) کی عظمت کو ایک پاکیزہ درخت (شجرہ طیبہ) سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوطی سے گڑھی ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان کو چھوتی ہیں۔

مثال کے اہم نکات

1 مضبوط بنیاد — جس طرح اچھے درخت کی جڑیں زمین کے اندر گہری اور مضبوط ہوتی ہیں، اسی طرح کلمہ طیبہ کی حقیقت مومن کے دل میں مضبوطی سے راسخ ہوتی ہے۔
2 بلندی اور قبولیت — جیسے درخت کی شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں، ویسے ہی کلمہ طیبہ اور مومن کے اچھے اعمال اللہ کے حضور بلندی پاتے ہیں۔
3 دائمی فائدہ — اس پاکیزہ درخت کا پھل ہر موسم میں اپنے رب کے حکم سے ملتا ہے، اسی طرح کلمہ توحید کی برکت اور اس کا ثواب ہمیشہ باقی رہتا ہے
2 مختصر جوابات

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَ

آیت میں اللہ کی کن نعمتوں کا ذکر ہے ؟

ترجمہ

اللہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے تمہارے کھانے کے لیے کچھ پھل نکالے اور کشتیوں کو تمہارے قابو میں دیا تاکہ اس کے حکم سے دریا میں چلیں اور دریا (نہریں) تمہارے قابو میں دیے

ذکر کردہ نعمتیں

1 زمین اور آسمان کی تخلیق — کائنات کا بنانا اور اسے انسان کے رہنے کے قابل کرنا۔
2 بارش اور رزق — آسمان سے پانی اتار کر زمین سے طرح طرح کے پھل پیدا کرنا۔
3 کشتی رانی — سمندروں میں کشتیوں اور جہازوں کو چلنے کے قابل بنانا تاکہ تجارت و سفر آسان ہو۔
4 نہریں — پانی کی فراہمی اور سیرابی کے لیے نہروں کو تابع کرنا۔
3 مختصر جوابات

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهَبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَآءِ

آیت کی رو سے سیدنا ابراہیم ؑ نے کس نعمت پر اللہ کی حمد بیان کی ؟

ترجمہ

سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے، بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے

جواب سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں اولاد جیسی عظیم نعمت (حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام) عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی۔
4 مختصر جوابات

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ

آیت کی رو سے قیامت کے دن ظالموں کی کیا کیفیت ہو گی ؟

ترجمہ

وہ میدانِ حشر کی طرف) اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑتے جا رہے ہوں گے، اس حال میں کہ ان کی پلکیں بھی نہ جھپکتی ہوں گی (اور نگاہیں جم کر رہ جائیں گی) اور ان کے دل (دہشت کے مارے) بالکل خالی ہوں گے

قیامت کے دن ظالموں کی کیفیت (اہم نکات)

1 بے تحاشا دوڑنا (مُهْطِعِينَ) — بلانے والے کی پکار پر خوف اور گھبراہٹ کے عالم میں تیزی سے میدانِ حشر کی طرف بھاگ رہے ہوں گے۔
2 سر اٹھے رہنا (مُقْنِعِي رُءُوسِهِمْ) — دہشت کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑ جائیں گی اور سر اوپر آسمان یا حساب کی طرف اٹھے ہوں گے۔
3 پلکوں کا نہ جھپکنا (لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ) — ہولناکی کی شدت سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، اور وہ خوف کے مارے پلک بھی نہیں جھپکا پائیں گے۔
4 دلوں کا خالی ہونا (وَأَفْئِدَتُهُمْ هَوَاءٌ) — شدید خوف اور صدمے کے باعث ان کے دل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، عقل اور سکت سے بالکل خالی ہو چکے ہوں گے
5 مختصر جوابات

فَلَا تَحسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِۦ رُسُلَهُۥإِنَّ ٱللَّهَ عَزِيز ذُو ٱنتِقَامٖ

آیت میں رسولوں کے ساتھ اللہ کے کس وعدے کا ذکر ہے؟

ترجمہ

پس آپ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ اللہ اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا، بیشک اللہ زبردست ہے اور بدلہ لینے والا ہے

جواب اس وعدے سے مراد وہ نصرت، غلبہ اور کامیابی ہے جو اللہ نے اپنے رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو عطا کرنے کا وعدہ فرما رکھا ہے

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

وَأُدْخِلَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ

ترجمہ اور مفہوم بیان کریں

ترجمہ

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے، وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اپنے رب کے حکم سے ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ وہاں ان کا استقبال 'سلام' کے ساتھ کیا جائے گا

سورۃ ابراہیم کی آیت 23 میں اللہ تعالی نے ایمان اور اچھے کام کرنے والوں کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔

تفسیر

1 اہلِ ایمان کا انجام — اس آیت میں پچھلی آیات کے مقابلے میں کافروں اور مشرکوں کے برعکس مومنین کا انجام بیان کیا گیا ہے کہ جنہوں نے دنیا میں سچے دل سے ایمان اپنایا اور نیک اعمال کیے۔
2 جنت کی نعمتیں — ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے گئے ہیں جن کے نیچے مختلف نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیش آرام اور سکون سے رہیں گے۔
3 رب کا اذن اور سلام — جنت میں ان کا یہ قیام اللہ کی اجازت اور رحمت سے ہوگا، اور فرشتوں یا آپس میں ان کا تحفہ اور سلامتی کا کلمہ "سلام" ہوگا"
7 تفصیلی جوابات

وَجَعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ

آیت میں کافروں کی کس نافرمانی پر تنبیہ کی گئی ؟

ترجمہ

اور انہوں نے اللہ کے لیے شریک (برابر والے) قرار دیے تاکہ اس کی راہ سے بھٹکا دیں۔ تم فرماؤ: فائدہ اٹھا لو، پھر بیشک تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے

سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر 30 میں کافروں کی اس نافرمانی پر تنبیہ کی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک اور برابر والے (بت اور جھوٹے معبود) ٹھہرائے تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے گمراہ کریں

نافرمانی اور تنبیہ کے اہم نکات

1 شرک اور بت پرستی — کافروں نے اللہ کی وحدانیت کے مقابلے میں دوسروں کو اس کا ہمسر اور شریک قرار دیا۔
2 دورسانی اور گمراہ — اس شرک کا مقصد خود گمراہ ہونا اور دوسرے انسانوں کو بھی اللہ کے سیدھے راستے سے ہٹانا تھا۔
3 آخروی انجام کی وعید — نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ انہیں کہہ دیں کہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ لو، آخرکار تمہاری بازگشت اور ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے
8 تفصیلی جوابات

رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ۔ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

ترجمہ و مفہوم لکھیں

ترجمہ

اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول فرما۔ اے ہمارے رب! مجھے اور میرے ماں باپ کو اور تمام مومنوں کو اس دن بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا

سورۃ ابراہیم کی آیات 40 اور 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ جامع دعائیں مذکور ہیں جو انہوں نے اپنی، اپنی اولاد اور تمام مسلمانوں کی بخشش اور اقامتِ صلاۃ کے لیے مانگی تھیں

مختصر تفسیر

1 نماز کی پابندی کی دعا — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے التجا کی کہ وہ خود انہیں اور ان کی نسل کو بھی نماز کا پابند بنائے، کیونکہ نماز دین کا ستون اور بندے کا اللہ سے براہ راست تعلق ہے۔
2 دعا کی قبولیت کی آس — ربنا وتقبل دعاء" کے ذریعے انہوں نے عاجزی کا اظہار کیا کہ اے رب! ہماری یہ دعائیں اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرما۔
3 مغفرت اور بخشش — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قیامت کے دن (حساب کتاب کے روز) اپنی، اپنے والدین کی اور تمام اہل ایمان کی مغفرت کی دعا فرمائی۔ (واضح رہے کہ یہ دعا والدین کے لیے اس وقت تھی جب تک آپ کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ اللہ کے دشمن ہیں)۔
9 تفصیلی جوابات

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ۔ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ ۖ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

آیت کی روشنی میں سیدنا ابراہیم ؑ کی دعا اور اس کے اثرات بیان کریں

ترجمہ

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! اس شہر (مکہ) کو امن کی جگہ بنا دے، اور مجھے اور میری اولاد کو اس بات سے بچا کہ ہم بتوں کی پوجا کریں ۔اے میرے رب! بے شک ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے، پس جو میرا پیروکار بنے وہ مجھ سے ہے، اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو بخشنے والا، مہربان ہے

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اہم نکات اور دعا کے اثرات و ثمرات

1 سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اہم نکات — امنِ عامہ کی طلب — آپ نے سب سے پہلے مکہ کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعا کی کیونکہ مادی و روحانی سکون کے لیے امن بنیادی شرط ہے۔
2 سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اہم نکات — توحید پر استقامت — اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کے لیے بھی بت پرستی سے مستقل پناہ مانگی.
3 سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اہم نکات — گمراہی کا ادراک — بتوں کے فتنہ اور ان کے ذریعے لوگوں کی بڑی تعداد کے گمراہ ہونے کا شکوہ کیا۔
4 سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے اہم نکات — شفقت اور عاجزی — نافرمانوں کے لیے بھی ہدایت اور اللہ کی غفور و رحیم ذات کے واسطے سے مغفرت کی دعا کی
5 دعا کے اثرات و ثمرات — مکہ کا دائمی امن — اس دعا کی برکت سے مکہ مکرمہ صدیوں سے امن اور احترام کا مرکز بنا ہوا ہے۔
6 دعا کے اثرات و ثمرات — توحید کا تسلسل — حضرت ابراہیم کی اولاد (بالخصوص بنی اسماعیل اور بنو ہاشم) میں توحید کی لہر اور اثرات باقی رہے، جو بالآخر خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ذریعہ بنے۔
7 دعا کے اثرات و ثمرات — اخلاصِ عمل کا درس — مومن کو اپنی اصلاح کے ساتھ اپنی نسل کے عقیدے کی فکر کرنے کا ابدی سبق ملا۔
10 تفصیلی جوابات

وَقَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُـمْ وَعِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ وَاِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ

ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

اور ان لوگوں نے اپنی تدبیریں کی تھیں اور ان کی تدبیریں اللہ کے سامنے تھیں، اگرچہ ان کی تدبیریں ایسی تھیں کہ ان سے پہاڑ بھی ٹل جائیں

تفسیری پس منظر اور شانِ نزول اور گہرے معانی اور حکمت

1 تفسیری پس منظر اور شانِ نزول — مکہ کے سرداروں کی سازشیں — یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب قریش کے بڑے بڑے سردار (جیسے ابو جہل اور عتبہ) اسلام کی دعوت کو روکنے اور نبی کریم ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ منصوبے بنا رہے تھے۔
2 تفسیری پس منظر اور شانِ نزول — دار الندوہ کی میٹنگ — مفسرین کے مطابق اس کا ایک اشارہ اس تاریخی واقعے کی طرف بھی ہے جب مکہ کے کافروں نے "دار الندوہ" (مشورے کی جگہ) میں اکٹھے ہو کر نبی کریم ﷺ کو قید کرنے، جلاوطن کرنے یا معاذ اللہ شہید کرنے کی سازشیں رچی تھیں۔
3 گہرے معانی اور حکمت — پہاڑ ٹل جانے کی تشبیہ — اس آیت میں دو طرح کی تفسیری آراء ہیں۔ ایک یہ کہ کافروں کی چالیں بظاہر اتنی خوفناک اور بھاری تھیں کہ (انسان کی نظر میں) پہاڑ ہلا دیں، لیکن اللہ کے سامنے وہ مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور تھیں۔ دوسری رائے یہ ہے کہ کافروں کی چالیں کبھی اتنی طاقتور نہیں ہو سکتیں کہ وہ اسلام کے پہاڑ جیسے مضبوط نظام کو اپنی جگہ سے ہلا سکیں۔
4 گہرے معانی اور حکمت — اللہ کی تدبیر — کافر اپنی چالیں جتنی مرضی چھپا کر چلیں، اللہ ان کے ہر منصوبے کو پہلے سے جانتا ہے اور اس کے پاس ان کا ایسا توڑ ہوتا ہے جو ان کی تمام کوششوں کو مٹی میں ملا دیتا ہے۔
11 تفصیلی جوابات

وَمَثَلُ كَلِمَتٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ

آیت میں کلمہ خبیثہ کی مثال کس حوالے سے بیان کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور ناپاک بات کی مثال اس ناپاک درخت کی سی ہے جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا گیا ہو، اسے ذرا بھی قرار (اور استحکام) نہ ہو

کلمہ خبیثہ کی مثال کے حوالے اور تشریح

1 مراد کفر و شرک — کلمہ خبیثہ سے مراد کفر، شرک اور جھوٹی بات ہے۔
2 ناپاک درخت کی مانند — اس کی مثال ایسے گھٹیا اور بدبو دار درخت (جیسے اندرائن یا حنظل) کی سی ہے۔
3 کمزور جڑیں — اس درخت کی جڑیں زمین میں گہرائی تک مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ زمین کے اوپر ہی ہوتی ہیں۔
4 بے ثباتی — ذرا سا ہاتھ لگانے یا ہلکے سے اشارے سے وہ اکھڑ جاتا ہے اور اس کا نام و نشان باقی نہیں رہتا۔
5 اعمال کا انجام — کافر کے اعمال اور اس کی باتیں بے حیثیت ہوتی ہیں، نہ وہ آسمان کی طرف اٹھتے ہیں اور نہ ہی اللہ کے ہاں ان کی کوئی قبولیت یا بقا ہوتی ہے

سرگرمیاں

12 سرگرمیاں

سیدنا ابراہیمؑ کی دعا مع ترجمہ

۱۔ سورہ البقرہ (آیت 127 اور 129) بیت اللہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی دعا رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (127) رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةً لَكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (128) رَبَّنَا وَبَعْثِ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (129)

1 اے ہمارے رب! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما، تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ اے ہمارے رب! ہم دونوں کو اپنا فرماں بردار رکھیے اور ہماری اولاد سے بھی ایک ایسی امت پیدا کیجیے جو آپ کی فرماں بردار ہو، اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے سکھائیے اور ہماری توبہ قبول کیجیے، بے شک آپ ہی توبہ قبول کرنے والے، بہت رحم والے ہیں۔ اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک ایسا رسول بھیجیے جو ان کو آپ کی آیتیں پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے (انہیں پاک صاف کرے)، بے شک آپ ہی زبردست، حکمت والے ہیں۔:
13 سرگرمیاں

سیدنا ابراہیمؑ کی دعا کی روشنی میں والدین اور اولاد کے حقوق لکھیں

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں (خصوصاً سورۃ ابراہیم اور سورۃ البقرہ) کی روشنی میں والدین اور اولاد کے حقوق یہ ہیں: اولاد کی تربیت اور سلامتی کی دعا کرنا، ان کے لیے توحید و عبادت پر استقامت مانگنا، اور اولاد پر لازم ہے کہ وہ والدین کا احترام کریں، ان کی نافرمانی سے بچیں اور ان کی بخشش و عافیت کے لیے دعاگو رہیں

والدین کے حقوق (اولاد پر) اور اولاد کے حقوق (والدین پر)

1 والدین کے حقوق (اولاد پر) — دعائے خیر و عافیت — اولاد کا فرض ہے کہ وہ والدین اور نسلوں کے لیے ہمیشہ ہدایت، سلامتی اور دنیا و آخرت کی بہتری کی دعا کریں۔
2 والدین کے حقوق (اولاد پر) — توحید کی پاسداری — والدین کی سب سے بڑی تمنا اور حق یہ ہوتا ہے کہ ان کی اولاد اللہ کی عبادت کرے، لہذا اولاد کا فرض ہے کہ وہ شرک سے بچ کر توحید پر قائم رہیں۔
3 والدین کے حقوق (اولاد پر) — فرمانبرداری اور قدر — والدین کے احسانات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور اطاعت کا رویہ رکھا جائے۔
4 اولاد کے حقوق (والدین پر) — صالح تربیت — والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اولاد کو برائیوں سے بچائیں اور انہیں نماز و عبادت کا پابند بنائیں۔
5 اولاد کے حقوق (والدین پر) — امن اور سکون کی دعا — اولاد کے لیے پرامن ماحول، رزقِ حلال اور خوف سے محفوظ زندگی کی دعا کرنا والدین کا فریضہ ہے۔
6 اولاد کے حقوق (والدین پر) — اخلاقی و ایمانی تحفظ — اولاد کو گمراہی اور بت پرستی (یا فکری کج روی) سے بچانے کی بھرپور کوشش کرنا۔
14 سرگرمیاں

سورۃ ابراہیم کے چوتھے رکوع میں اللہ نے "کلمہ طیبہ " اور "کلمہ خبیثہ " کی کیا مثا لیں دیں

سورۃ ابراہیم (پارہ 13) کے چوتھے رکوع (آیات 24 تا 27) میں اللہ تعالیٰ نے کلمہ طیبہ اور کلمہ خبیثہ کی یہ مثالیں دی ہیں: کلمہ طیبہ کی مثال ایک پاکیزہ درخت جیسی ہے جس کی جڑیں مضبوط اور شاخیں آسمان میں ہوں اور وہ ہر وقت پھل دے، جبکہ کلمہ خبیثہ کی مثال ایک اکھڑے ہوئے خبیث درخت جیسی ہے جو زمین کے اوپر سے ہی اکھڑ جائے اور اس کی کوئی قرار یا استقامت نہ ہو

کلمہ طیبہ (اچھا کلمہ/ایمان) اور کلمہ خبیثہ (برا کلمہ/کفر)

1 کلمہ طیبہ (اچھا کلمہ/ایمان) — جڑیں — زمین میں مضبوطی سے جمی ہوتی ہیں۔
2 کلمہ طیبہ (اچھا کلمہ/ایمان) — شاخیں آسمان کی طرف بلند ہوتی ہیں۔
3 کلمہ طیبہ (اچھا کلمہ/ایمان) — فائدہ — وہ اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا رہتا ہے۔
4 کلمہ طیبہ (اچھا کلمہ/ایمان) — معنی — یہ سچے دین اور کلمہ توحید کی مثال ہے جو انسان کے دل میں مضبوطی سے بیٹھ جاتا ہے اور اس کا عمل ہمیشہ آسمان تک پہنچتا ہے۔
5 کلمہ خبیثہ (برا کلمہ/کفر) — بنیاد — زمین کی سطح سے ہی اکھڑا ہوا ہوتا ہے۔
6 کلمہ خبیثہ (برا کلمہ/کفر) — استقامت — اس کی کوئی پختگی یا بقا نہیں ہوتی۔
7 کلمہ خبیثہ (برا کلمہ/کفر) — معنی — یہ شرک اور برے قول کی مثال ہے جس کی کوئی جڑ نہیں ہوتی اور وہ باطل کی طرح جلد ختم ہو جاتا ہے۔
15 سرگرمیاں

سورۃ ابراہیم آیت 22 تا 52 میں بیان ہونے والے واقعات لکھیں

سورۃ ابراہیم کی آیات 22 تا 52 میں شیطان کا اعتراف اور انجام، کلمہ طیبہ اور خبیثہ کی تمثیل، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں، اور ظالموں کے لیے یومِ حساب کی ہولناکیوں کا بیان ہے۔

اہم مضامین و واقعات

1 شیطان کا خطبہ (آیت 22) — فیصلہ ہو جانے کے بعد شیطان جہنمیوں سے کہے گا کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا اور میرا فریب جھوٹا تھا، میرا تم پر کوئی زور نہیں تھا، صرف میں نے پکارا اور تم نے مانا، اس لیے اب مجھے نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔
2 اہلِ ایمان کا انجام (آیت 23) — نیکوکار لوگ ہمیشہ رہنے والے باغوں میں داخل ہوں گے جہاں ان کا استقبال سلام سے کیا جائے گا۔
3 اچھی اور بری بات کی مثال (آیات 24-27) — کلمہ طیبہ (توحید) کی مثال ایک مضبوط اور سایہ دار درخت جیسی ہے جس کی جڑیں زمین میں اور شاخیں آسمان میں ہیں، اور کلمہ خبیثہ (شرک) کی مثال ایک کمزور درخت جیسی ہے۔
4 ناشکری کا انجام (آیات 28-30) — جن لوگوں نے اللہ کی نعمتوں کے بدلے کفر کیا اور اپنے لوگوں کو تباہی کے گھر میں اتارا، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
5 حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں (آیات 35-41) — حضرت ابراہیم کا اپنے شہر (مکہ) کو امن کا گہوارہ بنانے، خود کو اور اپنی اولاد کو نماز قائم رکھنے والا رکھنے، اور اپنے والدین سمیت مومنین کی مغفرت کی دعا کرنا۔
6 اللہ کی پکڑ اور قیامت کا منظر (آیات 42-51) — ظالموں کو مہلت دینے کے بعد ان کے آنکھوں کی پتھراٹ، دلوں کے خالی ہونے اور قیامت کے دن مجرموں کے طوق و زنجیر میں جکڑے جانے کی ہولناک تصویر کشی۔
7 خاتمہ (آیت 52) — یہ قرآن تمام انسانوں کے لیے ایک پیغام اور وارننگ ہے تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف ایک ہی اللہ ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.