دسویں جماعت · مطالعہ قرآنِ حکیم · خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ

باب 11: سبق 11: سورۃ ابراہیم (آیات 1 تا 21) — مشقی سوالات

تیارمختصر جوابات، تفصیلی جوابات اور سرگرمیاں · 11 سوالات
حل کی زبان:اردو

مختصر جوابات

1 مختصر جوابات

اَلَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَةِ وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَیَبْغُوْنَهَا عِوَجًا ۙ اُولٰٓىِٕكَ فِیْ ضَلَالٍ بَعِیْدٍ

آیت میں گمراہ لوگوں کے کن اعمال کا ذکر ہے؟

ترجمہ

وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر پسند (ترجیح) کرتے ہیں اور اللہ کے راستے سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور اس راستے میں ٹیڑھا پن تلاش کرتے ہیں (یا اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں)، یہی لوگ دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں

اس مبارک آیت میں گمراہ اور کافر لوگوں کے درج ذیل تین بنیادی اعمال و شعار کا ذکر کیا گیا ہے

آیت میں بیان کردہ گمراہ لوگوں کے اعمال

1 دنیا کی محبت اور ترجیح — یہ لوگ ہمیشہ آخرت کے مقابلے میں فانی اور عارضی دنیا کی زندگی کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور اسی کو اپنا سب کچھ مانتے ہیں۔
2 راہِ خدا سے روکنا — یہ نہ صرف خود دینِ حق اور ہدایت سے دور رہتے ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اللہ کے راستے (توحید اور دینِ اسلام) پر چلنے سے روکتے ہیں۔
3 دین میں کجی (ٹیڑھا پن) تلاش کرنا — یہ اللہ کے سیدھے اور واضح راستے میں عیب جوئی کرتے ہیں، اس میں طرح طرح کی خرابیاں اور شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں، یا اپنی خواہشات کے مطابق دین کو ٹیڑھا اور مرضی کا بنانا چاہتے ہیں۔
2 مختصر جوابات

وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ

آیت میں شکر کرنے اور نہ کرنے کا کیا انجام بیان ہوا ہے؟

ترجمہ

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب تمہارے رب نے خبردار کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً بہت سخت ہے

شکر کرنے اور نہ کرنے کا انجام

1 شکر کرنے کا انجام — اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا اعتراف اور اطاعت کرنے پر اللہ تعالیٰ بندے کی نعمتوں اور وسائل میں مزید اضافہ فرماتا ہے۔
2 ناشکری (کفرِ نعمت) کا انجام — اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے یا انہیں گناہوں میں استعمال کرنے پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے، جو کہ بہت سخت اور دردناک ہے۔
3 مختصر جوابات

وَقَالَ مُوْسٰیٰ اِنْ تَكْفُرُوْا اَنْتُمْ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِیٌّ حَمِیْدٌ

آیت میں سیدنا موسیٰ ؑ کے کس فرمان کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور موسیٰ نے فرمایا: اگر تم اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کے سب ناشکری کرو تو بیشک اللہ بے نیاز، خوبیوں والا ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فرمان

1 اللہ کی بے نیازی — اس مبارک فرمان کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسانوں کی شکر گزاری یا ناشکری سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
2 بندے کا اپنا نقصان — اگر تمام دنیا بھی ناشکری اختیار کرلے تو اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ وہ غنی (بے پرواہ) اور محمود (تعریف کے لائق) ہے۔ شکر کا فائدہ خود انسان کو ہی ملتا ہے
4 مختصر جوابات

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِنْ أَرْضِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا

آیت کی رو سے کافروں نے رسولوں کی کیا گستاخی کی؟

ترجمہ

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم ضرور تمہیں اپنی زمین سے نکال دیں گے یا تم ہمارے دین پر ہو جاؤ

گستاخی اور ہٹ دھرمی کی تفصیل

1 جلاوطنی کی دھمکی — کافروں نے انبیاء کرام کو یہ دھمکی دی کہ وہ انہیں زبردستی ان کے اپنے آبائی وطن اور شہروں سے باہر نکال دیں گے۔
2 دین بدلنے کا دباؤ — انہوں نے رسولوں کے سامنے شرط رکھی کہ یا تو وہ حق کا راستہ چھوڑ کر دوبارہ کفر اور ان کے آبائی جاہلی دین میں شامل ہو جائیں۔
3 اللہ کا ردعمل — اس گستاخی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو وحی کے ذریعے تسلی دی کہ وہ ان ظالموں کو ضرور ہلاک کرے گا اور انبیاء کو ان کی زمین کا وارث بنائے گا
5 مختصر جوابات

وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنْتُمْ مُغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَحِيصٍ

آیت کی رو سے روز قیامت کمزور لوگ متکبر لوگوں سے کیا کہیں گے؟

ترجمہ

اور سب لوگ اللہ کے سامنے کھلے بندوں حاضر ہوں گے، تو جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے کہیں گے جو تکبر کرتے تھے کہ ہم تو تمہارے تابعدار تھے، تو کیا تم اللہ کے عذاب میں سے کچھ عذاب ہم سے ٹال سکتے ہو؟ وہ جواب دیں گے کہ اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم بھی تمہیں ضرور ہدایت کی راہ دکھاتے، اب تو ہمارے لیے یکساں ہے، خواہ ہم شور مچائیں یا صبر کریں، ہمارے لیے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے،

قیامت کے دن جب پیروکار (کمزور لوگ) عذاب الٰہی کو سامنے دیکھیں گے، تو وہ اپنے دنیاوی پیشواؤں اور متکبر رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہیں گے

کمزور لوگوں کا متکبرین سے سوال

1 اندھی پیروی کا اعتراف — ہم دنیا میں تمہاری ہر بات مانتے تھے اور تمہارے اشاروں پر چلتے تھے۔
2 بے بسی کا شکوہ — آج ہم اس عذاب میں پھنس چکے ہیں، تو کیا تم اپنے رعب، طاقت یا تدبیر سے اللہ کے اس عذاب کا کچھ حصہ ہم سے دور کر سکتے ہو؟

تفصیلی جوابات

6 تفصیلی جوابات

الر ۚ كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الـظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

الـر۔ یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئیں، ان کے رب کے حکم سے، اس زبردست اور تعریف والے (اللہ) کے راستے کی طرف

1 1۔ حروفِ مقطعات (الر) — آیت کا آغاز الر" (الف، لام، را) سے ہوتا ہے۔ یہ حروفِ مقطعات میں سے ہیں۔ ان کا حقیقی مطلب اور مراد صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں۔ مفسرین کے مطابق یہ قرآن مجید کا ایک اعجاز (معجزہ) ہیں، جو انسانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ کتاب انہی کے حروفِ تہجی سے بنی ہے مگر وہ اس جیسی ایک آیت بھی بنانے سے قاصر ہیں۔
2 2۔ کتاب کا نزول اور عظمت (كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ) — اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ عظیم الشان کتاب (قرآن مجید) ہے جسے ہم نے آپ (حضرت محمد ﷺ) پر نازل کیاہے۔ ,
3 2۔ کتاب کا نزول اور عظمت (كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ) — یہاں "کتاب" کو نکرہ (عام لفظ) لا کر اس کی عظمت اور جلالت کو ظاہر کیا گیا ہے۔
4 2۔ کتاب کا نزول اور عظمت (كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ) — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کتاب کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں، بلکہ براہِ راست رب العالمین کا کلام ہے۔
5 3۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف لانا (لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ) — یہ اس آیت کا سب سے بنیادی اور تفصیلی نکتہ ہے، جس میں قرآن اور بعثتِ محمدی ﷺ کا مقصد بیان ہوا ہے:
6 3۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف لانا (لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ) — تاریکیوں (الظُّلُمَاتِ) سے مراد — آیت میں تاریکی کے لیے جمع کا لفظ "ظلمات" استعمال ہوا ہے۔ مفسرین کے مطابق کفر، شرک، جہالت، بدعت، نفاق، اخلاقی پستی اور دنیا پرستی کی راہیں بے شمار ہیں، اس لیے انہیں "تاریکیاں" کہا گیا۔
7 3۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف لانا (لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ) — روشنی (النُّورِ) سے مرا — روشنی کے لیے واحد کا لفظ "نور" استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد صراطِ مستقیم (حق کا راستہ)، ایمان، توحید اور اسلام ہے۔ حق کا راستہ چونکہ صرف ایک ہی ہوتا ہے، اس لیے اسے واحد (نور) کہا گیا۔ ]
8 3۔ اندھیروں سے روشنی کی طرف لانا (لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ) — نبی ﷺ کا منصب — نبی کریم ﷺ کا کام لوگوں کو کفر و شرک کی دلدل سے نکال کر اسلام کے اجالے میں لانا ہے۔
9 4۔ اللہ کا اذن اور قانونِ ہدایت (بِإِذْنِ رَبِّهِمْ) — آیت کا یہ حصہ عقیدے کے لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اندھیروں سے روشنی میں لانے کا یہ عمل
10 4۔ اللہ کا اذن اور قانونِ ہدایت (بِإِذْنِ رَبِّهِمْ) — ان کے رب کے حکم (اذن) سے" ہوگا۔
11 4۔ اللہ کا اذن اور قانونِ ہدایت (بِإِذْنِ رَبِّهِمْ) — اس سے واضح ہوتا ہے کہ رسول ﷺ کا کام صرف راستہ دکھانا اور دعوت پہنچانا ہے۔
12 4۔ اللہ کا اذن اور قانونِ ہدایت (بِإِذْنِ رَبِّهِمْ) — دلوں کو بدلنا اور ہدایت دینا صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
13 4۔ اللہ کا اذن اور قانونِ ہدایت (بِإِذْنِ رَبِّهِمْ) — اللہ کا قانونِ ہدایت یہ ہے کہ جو شخص سچے دل سے حق کو تلاش کرتا ہے، اللہ اسے اپنے اذن سے ہدایت کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو ضد پر اڑا رہے وہ اندھیروں میں ہی بھٹکتا رہتا ہے۔
14 5۔ اللہ کی صفات (إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ) — آیت کے آخر میں اس راستے کو اللہ کا راستہ کہا گیا اور اللہ کی دو صفات بیان کی گئیں
15 5۔ اللہ کی صفات (إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ) — العَزِيز (سب پر غالب/زبردست — وہ ہستی جو اتنی طاقتور ہے کہ کائنات کی کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ لہٰذا اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے والا کبھی مغلوب نہیں ہو سکتا۔
16 5۔ اللہ کی صفات (إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ) — الحَمِيد (قابلِ تعریف/سب خوبیوں والا) — وہ ذات جو اپنی صفات اور افعال میں خود ہی محمود (تعریف کے لائق) ہے، چاہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے۔ اس کا راستہ سراسر حکمت اور بھلائی پر مبنی ہے
7 تفصیلی جوابات

قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِنْ نَحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَمَا كَانَ لَنَا أَنْ نَأْتِيَكُمْ بِسُلْطَانٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

آیت کا ترجمہ اور مفہوم لکھیں

ترجمہ

ان کے رسولوں نے ان سے کہا: ”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے (اور نبوت سے نوازتا ہے)۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ ہم تمہیں کوئی سند (یا معجزہ) لا دیں مگر اللہ کے حکم سے، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے

مفہوم و تشریح

1 بشر اور رسول — کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے کہ ایک انسان رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ انبیاء نے واضح کیا کہ جسمانی اور بشری لحاظ سے وہ بھی تمہاری طرح انسان ہی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل اوراحسان ہے کہ وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔
2 معجزات کا اختیار — انبیاء نے یہ بھی بتا دیا کہ اپنی مرضی سے کوئی معجزہ یا دلیل لے آنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ سب کچھ صرف اللہ کے اذن اور حکم سے ہوتا ہے۔
3 توکل علی اللہ — تمام انبیاء اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تمام مشکلات اور امور میں صرف اور صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔
8 تفصیلی جوابات

مِّن وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ وَ یُسقٰی مِن مَّآءٍ صَدِیدٍ (۱۶) یَتَجَرَّعُہٗ وَ لَا یَکَادُ یُسِیغُہٗ وَ یَاتِیہِ المَوتُ مِن کُلِّ مَکَانٍ وَّ مَا ھوَ بِمَیِّتٍ وَ ِن وَّرَآئِہٖ عَذَابٌ غَلِیظٌ

آیات میں اہل جہنم کی کیا صفات بیان ہوئی ہیں ؟

ترجمہ

اس (سرکش) کے آگے جہنم ہے اور اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ وہ اسے گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا مگر اسے گلے سے نیچے اتار نہ سکے گا، اور اسے ہر طرف سے موت آتی ہوئی دکھائی دے گی مگر وہ مر نہ سکے گا، اور اس کے پیچھے ایک اور سخت عذاب ہوگا

آیات میں بیان کردہ اہل جہنم کی کیفیات و صفات

1 شدتِ پیاس اور عذابِ نوشی — جہنمی شدید پیاس کی حالت میں پیپ اور خونلاسر کا کھولتا ہوا پانی پینے پر مجبور ہوں گے۔
2 نگلنے میں بے بسی — وہ بدبو دار اور غلیظ پانی حلق سے نیچے نہیں اتار پائیں گے، انتہائی کراہت اور حرارت کی وجہ سے گھونٹ گلے میں پھنس جائے گا۔
3 دائمی موت کی تمنا — عذاب کی ہولناکی سے انہیں ہر سمت سے موت آتی محسوس ہوگی (جسم کا ذرہ ذرہ تکلیف سے ٹوٹ رہا ہوگا)، لیکن وہ موت سے ہمکنار نہیں ہو سکیں گے تاکہ عذاب جاری رہے۔
4 مسلسل اور سخت عذاب — ایک عذاب کی تکلیف کے بعد ان کے لیے مزید سخت اور غلیظ (دائمی) عذاب تیار ہوگا۔

سرگرمیاں

9 سرگرمیاں

سابقہ اقوام قوم عاد اور قوم ثمود کے متعلق اہم نکات لکھیں

قوم عاد اور قوم ثمود دو تباہ شدہ تاریخی قومیں ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ ان کے اہم نکات میں ان کا مقام، سرکشی اور انجام شامل ہیں

قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام) اور قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام)

1 قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام) — مقام — سرزمینِ احقاف (یمن اور عمان کے درمیان علاقہ)۔
2 قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام) — خصوصیات — انتہائی قوی جسم، بلند و بالا عمارات اور طاقت کے غرور میں مبتلا۔
3 قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام) — سرکشی — بت پرستی اور انبیاء کی تکذیب، طاقت پر گھمنڈ۔
4 قوم عاد (حضرت ہود علیہ السلام) — عذاب — سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل آنے والی شدید اور سرد آندھی (صرصر) جس نے انہیں جڑ سے اکھاڑ دیا۔
5 قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام) — مقام — وادی القریٰ اور حجر (مدائن صالح، جو مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے)۔
6 قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام) — خصوصیات — پہاڑوں کو تراش کر شاندار اور مضبوط گھر بنانے میں ماہر۔
7 قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام) — سرکشی — اللہ کی نشانی یعنی اونٹنی کو قتل کیا اور حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا۔
8 قوم ثمود (حضرت صالح علیہ السلام) — عذاب — خوفناک زلزلہ اور آسمانی چنگھاڑ (صیحہ) جس نے انہیں اپنے گھروں میں اوندھا کر کے رکھ دیا۔
10 سرگرمیاں

سورۃ ابراہیم آیت 11،12 میں صبر اور اللہ پر بھروسے کرنے کی کیا ترغیب دی گئی ہے؟

سورۃ ابراہیم کی آیات 11 اور 12 میں انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعے مومنوں کو یہ ترغیب دی گئی ہے کہ وہ مخالفین کی تکلیفوں پر صبر کریں اور تمام معاملات میں صرف اللہ پر بھروسہ (توکل) رکھیں، کیونکہ ہدایت دینے والی اور مدد کرنے والی ذات صرف وہی ہے

صبر اور توکل کی ترغیب کے اہم پہلو

1 بشریت کا اعتراف اور اللہ کا فضل — انبیاء نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ انسان ہیں، لیکن اللہ اپنے فضل سے جسے چاہے نبوت عطا کرتا ہے؛ لہٰذا اس کی حکمت پر کامل اعتماد رکھنا چاہیے۔
2 ہدایت کا شعور — اس بات کا پختہ یقین کہ جب اللہ نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، تو اس پر بھروسہ نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔
3 اذیت پر استقامت — کافروں کی طرف سے دی جانے والی ہر تکلیف اور ظلم پر ڈٹ کر صبر کرنے کا عزم صمیم ظاہر کیا گیا۔
4 توکل کا ضابطہ — یہ مستقل اصول بیان کیا گیا کہ تمام بھروسہ کرنے والوں کا حقیقی تکیہ اور بھروسہ صرف اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے
11 سرگرمیاں

سورۃ ابراہیم آیت 7 کا مفہوم مختلف مثالوں سے لکھیں

1 شکر کا مفہوم اور مثالیں — مال اور دولت — شکر کی صورت — اللہ کی دی ہوئی دولت کو غریبوں کی مدد اور اچھے کاموں میں خرچ کرنا۔
2 شکر کا مفہوم اور مثالیں — مال اور دولت — صلہ — اللہ تعالی اس مال میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
3 شکر کا مفہوم اور مثالیں — مال اور دولت — ناشکری کا انجام — دولت کو غیراخلاقی کاموں میں اڑانا، جس سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
4 صحت اور تندرستی — شکر کی صورت — جسمانی طاقت کو نیکی کے کاموں اور عبادت میں استعمال کرنا۔
5 صحت اور تندرستی — صلہ — اللہ صحت کو برقرار رکھتا اور قوت دیتا ہے۔
6 صحت اور تندرستی — ناشکری کا انجام — طاقت کا غلط استعمال کرنا، جس سے بیماریاں اور کمزوری گھیر لیتی ہیں۔
7 علم اور عقل — شکر کی صورت — اپنے علم کو دوسروں تک پہنچانا اور سچائی کی راہ پر چلنا۔
8 علم اور عقل — صلہ — اللہ مزید علم اور سمجھ عطا کرتا ہے۔
9 علم اور عقل — ناشکری کا انجام — علم پر غرور کرنا، جس سے انسان جہالت کے اندھیروں میں چلا جاتا ہے۔

یہ صفحہ خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.