آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل پر کن انعامات کا ذکر ہے؟
ترجمہ
اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا، کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔
بنی اسرائیل پر انعامات کی تفصیل
1الغمام (بادل کا سایہ) — صحرائے سینا کی سخت دھوپ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص بادلوں کا سایہ فراہم کیا۔
2المن (من) — شہد یا برف کی طرح شیریں اور سفید خوراک جو آسمان سے اترتی تھی۔
3السلویٰ (سلویٰ) — ایک قسم کے پرندے (بٹیر) جو بطورِ خوراک مہیا کیے گئے۔
آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل پر کیا ملامت کی گئی ہے؟
ترجمہ
اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے… اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔
بنی اسرائیل پر کی جانے والی ملامت
1ناشکری اور بے صبری — بغیر محنت کے ملنے والے بہترین آسمانی طعام (من و سلویٰ) پر صبر نہ کرنا۔
2بہتر کو کمتر سے بدلنا — عظیم نعمت چھوڑ کر پست اور عام چیزوں کا طلبگار ہونا۔
3آیاتِ الٰہی کا انکار — اللہ کے احکامات اور نشانیوں کی تکذیب کرنا۔
4انبیاء کا ناحق قتل — ہدایت دینے والے انبیائے کرام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا۔
5سرکشی اور نافرمانی — حدودِ اللہ کو پامال کرنا اور گناہ پر اصرار کرنا۔
آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل کو جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، اس کی کیا نشانیاں بیان کی گئی ہیں؟
ترجمہ
انہوں نے کہا: آپ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو؟ فرمایا: وہ ایسی گائے ہے جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل کم عمر، بلکہ ان دونوں کے درمیانی عمر کی ہو۔ پس اب وہ کام کر ڈالو جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔
گائے کی نشانیاں (آیت 68 تا 71 کے تناظر میں)
1عمر — نہ زیادہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل نوعمر، بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔
2رنگ — گہری زرد رنگت جو دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
3محنت سے پاک — نہ ہل چلانے کے لیے جوتی گئی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دینے کے لیے استعمال ہوئی ہو۔
4عیب سے پاک — تندرست اور بے عیب ہو، جس پر کوئی داغ یا نشان نہ ہو۔