گیارہویں جماعت · اسلامیات (اختیاری) · وفاقی بورڈ، اسلام آباد

باب 2: سبق 2: سورۃ البقرہ آیات 40 تا 82

تیارمشقی سوالات · 5 سوالات
حل کی زبان:اردو

ترجمہ + نکات

1 مشقترجمہ + نکات

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ

آیتِ کریمہ میں کن دو کاموں سے منع کیا گیا ہے؟

ترجمہ

اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ، جب کہ تم جانتے ہو۔

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 42 میں دو کاموں سے منع کیا گیا ہے۔

1 حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا۔
2 دیدہ و دانستہ حق کو چھپانا۔
2 مشقترجمہ + نکات

وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل پر کن انعامات کا ذکر ہے؟

ترجمہ

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا، کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں عطا کی ہیں وہ کھاؤ۔ اور انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔

بنی اسرائیل پر انعامات کی تفصیل

1 الغمام (بادل کا سایہ) — صحرائے سینا کی سخت دھوپ سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص بادلوں کا سایہ فراہم کیا۔
2 المن (من) — شہد یا برف کی طرح شیریں اور سفید خوراک جو آسمان سے اترتی تھی۔
3 السلویٰ (سلویٰ) — ایک قسم کے پرندے (بٹیر) جو بطورِ خوراک مہیا کیے گئے۔
3 مشقترجمہ + نکات

وَإِذْ قُلْتُمْ يَٰمُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَٰحِدٍ فَٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ ٱلْأَرْضُ … ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ

آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل پر کیا ملامت کی گئی ہے؟

ترجمہ

اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے… اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔

بنی اسرائیل پر کی جانے والی ملامت

1 ناشکری اور بے صبری — بغیر محنت کے ملنے والے بہترین آسمانی طعام (من و سلویٰ) پر صبر نہ کرنا۔
2 بہتر کو کمتر سے بدلنا — عظیم نعمت چھوڑ کر پست اور عام چیزوں کا طلبگار ہونا۔
3 آیاتِ الٰہی کا انکار — اللہ کے احکامات اور نشانیوں کی تکذیب کرنا۔
4 انبیاء کا ناحق قتل — ہدایت دینے والے انبیائے کرام کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانا۔
5 سرکشی اور نافرمانی — حدودِ اللہ کو پامال کرنا اور گناہ پر اصرار کرنا۔
4 مشقترجمہ + نکات

قَالُواْ ٱدعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَة لَّا فَارِض وَلَا بِكرٌ عَوَانُ بَينَ ذَٰلِكَ فَٱفْعَلُواْ مَا تُؤْمَرُونَ

آیتِ کریمہ میں بنی اسرائیل کو جس گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا، اس کی کیا نشانیاں بیان کی گئی ہیں؟

ترجمہ

انہوں نے کہا: آپ ہمارے لیے اپنے پروردگار سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو؟ فرمایا: وہ ایسی گائے ہے جو نہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل کم عمر، بلکہ ان دونوں کے درمیانی عمر کی ہو۔ پس اب وہ کام کر ڈالو جس کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔

گائے کی نشانیاں (آیت 68 تا 71 کے تناظر میں)

1 عمر — نہ زیادہ بوڑھی ہو اور نہ بالکل نوعمر، بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔
2 رنگ — گہری زرد رنگت جو دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
3 محنت سے پاک — نہ ہل چلانے کے لیے جوتی گئی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دینے کے لیے استعمال ہوئی ہو۔
4 عیب سے پاک — تندرست اور بے عیب ہو، جس پر کوئی داغ یا نشان نہ ہو۔
5 مشقترجمہ + نکات

فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا

آیتِ کریمہ میں کن لوگوں کی ہلاکت کا ذکر ہے؟

ترجمہ

پس خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں، پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کریں۔

اس آیت میں اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھ کر اسے اللہ کی طرف سے بتانے والوں کی ہلاکت کا ذکر ہے۔

ہلاکت کے مستحق لوگ

1 جھوٹے کاتب — وہ لوگ جنہوں نے اپنے ہاتھ سے کتاب میں ردوبدل کیا اور احکام بدلے۔
2 دفتری فریب — خود ساختہ باتوں کو اللہ کا حکم قرار دینا۔
3 دنیا کا لالچ — اس تحریف کا مقصد دنیا کا حقیر اور قلیل فائدہ حاصل کرنا تھا۔

یہ صفحہ وفاقی بورڈ، اسلام آباد کی 2024 مارکنگ اسکیم سے جانچا گیا۔

An unhandled error has occurred. Reload 🗙

Rejoining the server...

Rejoin failed... trying again in seconds.

Failed to rejoin.
Please retry or reload the page.

The session has been paused by the server.

Failed to resume the session.
Please retry or reload the page.